اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق ایران کی پاسداران انقلاب فورس میں بحریہ کے کمانڈر ایڈمرل جنرل علی فدوی نے سمندری جھڑپوں کے شعبے میں بحریہ کی بے پناہ صلاحیتوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ سپاہ پاسداران کی بحریہ کے پروگراموں میں، خلیج فارس علاقے سے امریکیوں کو نکالنا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکی جنگی جہاز بہت زیادہ وقت سے ظاہرا اہم عالمی آبی سرحد کے تحفظ کو یقینی بنانے کے بہانے موجود ہیں لیکن ان کا اصلی مقصد، علاقائی ممالک کے گیس اور تیل کے ذخائر پر تسلط قائم کرنا ہے اور اسی مقصد کے پیش نظر وہ خلیج فارس میں ٹکے ہوئے ہیں۔
ان سب کے باوجود ایران نے بارہا اعلان کیا ہے کہ علاقائی ممالک، خلیج فارس علاقے میں سیکورٹی کے قیام کی مکمل توانائی رکھتے ہیں اور علاقے کے طاقتور ملک کے طور پر ایران نے اس علاقے کی سیکورٹی کو اپنے پروگراموں کا حصہ قرار دیا ہے۔
اسی تناظر میں کچھ دن قبل خلیج فارس اور آبنائے ہرمز کی حفاظت پر تعینات سپاہ پاسداران کی بحریہ کے کمانڈر جنرل علی فدوي نے فارس نیوز ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی جنگی بیڑے سے مقابلے کے لئے بحریہ کی وسیع مشق کی اطلاع دی اور کہا کہ امریکا کے جنگی بیڑوں کو غرق اور تباہ کرنے کے لئے ہم نے بہت مشق کی اور ہم پچاس سیکنڈ میں امریکا کے ایک جنگی جہاز کو غرق کر سکتے ہیں۔
اس پروگرام میں ایڈمرل فدوي نے آبنائے ہرمز اور خلیج فارس کی حفاظت کے لیے ایران کی حکمت عملی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ خلیج فارس سے امریکی فوجیوں کو نکالنا، سپاہ پاسداران کی بحریہ کے پروگراموں کا حصہ ہے۔
انہوں نے آبنائے ہرمز کے اسٹرٹیجک راستے پر کنٹرول کے بارے میں کہا کہ بین الاقوامی قوانین کی بنیاد پر، ہمیں آبناے ہرمز اور خلیج فارس کی حفاظت کا حق ہے اور اسی لئے اگر امریکی کشتیوں نے سپاہ پاسداران کے انتباہ کو نظر انداز کیا تو وہ کچھ ہی لمحےمیں خود کو ہزاروں کشتیوں میں گھیرے ہوئے پائیں گے اور ہمارے میزائیل ان کا راستہ بند کر دیں گے۔
.......
/169